ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایودھیا معاملے پر قصورواروں کو سزا ملنی چاہئے :کانگریس

ایودھیا معاملے پر قصورواروں کو سزا ملنی چاہئے :کانگریس

Thu, 20 Apr 2017 06:21:31    S.O. News Service

نئی دہلی،19؍اپریل (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا ) کانگریس نے کہا کہ 1992کے بابری مسجد شہادت معاملہ میں قانون کی حکمرانی قائم ہونا چاہیے اور قصورواروں کو سزا دی جانا چاہیے ۔ساتھ ہی پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس معاملے میں ان کے وزراء کے ملزم ہونے کو لے کر اخلاقیات کی نصیحت دی ہے ۔

قابل ذکرہے کہ سپریم کورٹ نے لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت بی جے پی کے سینئر لیڈروں کے خلاف مجرمانہ سازش کا الزام بحال کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سنگھ سرجیوالا نے کہاکہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے ، قانون کو بغیر کسی خوف یا جانبداری کے اپنا کام کرنے دینا چاہیے، انصاف ہونے دیجئے، اور مجرم کو سزا دی جانی چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ درجہ ، ذات، عقیدہ، مذہب یا علاقے کی پرواہ کئے بغیر قانون کی حکمرانی سب کے لیے ایک جیسی ہے۔فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے امید ظاہر کہ اخلاقیات کی بات کرنے والے مودی اس بار اسے نہیں بھولیں گے اور ان کے وزراء اخلاقیات کے اعلی معیار کی پیروی کریں گے۔سبل نے کہا کہ کم از کم 25سال کے بعد سپریم کورٹ نے یہ دکھا دیا ہے کہ قانون کاوقار برقرار ہے اور فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے ایک پرانی فلم ’20سال بعد‘کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نئی فلم 25سال بعد کی طرح ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کو لے کر خوش ہیں کہ یہ اگلے دو سال میں بدل جائے گی۔وزیر اعظم کو نشانے پر لیتے ہوئے سبل نے کہاکہ جہاں تک مسئلہ کی بات ہے،تو ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی اخلاقیات کو لے کر ہمیشہ بہت پابند رہتے ہیں، یہ انہوں نے عوامی طور پر بھی کہا ہے، کئی بار وہ اس وقت اخلاقیات کی بات بھول جاتے ہیں جب ان کے وزراء کے لیے آتا ہے، ہمیں امید کرنی چاہیے کہ وہ اس بار نہیں بھولیں گے۔کانگریس لیڈر کا یہ بیان سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے پس منظر میں آیاہے ، جس میں کورٹ نے اڈوانی، جوشی، اومابھارتی سمیت بی جے پی کے سینئر رہنماؤں کے خلاف 1992میں بابری مسجد شہادت کیس میں مجرمانہ سازش کا معاملہ بحال کرنے کی سی بی آئی کی درخواست کو منظوری دے دی ہے۔عدالت عظمی نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ ان لیڈروں اور کارسیوکوں کے خلاف ہر دن سماعت ہوگی اور مقدمے کو دو سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔


Share: